اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صدر پزشکیان نے عالمی توانائی کی منڈیوں پر علاقائی کشیدگی اور یک طرفہ اقدامات کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے منڈیوں کے خطرات کم کرنے اور توانائی کی فراہمی و طلب کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یک طرفہ پابندیوں اور خطے میں امریکی فوجی مداخلت کو توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام کے اہم عوامل قرار دیا۔ ان کے مطابق، ان اقدامات نے توانائی کی پیداوار، ترسیل اور قیمتوں کے تعین کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے عالمی گیس مارکیٹ کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کا مؤثر مقابلہ کرنے پر زور دیا۔
پزشکیان نے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کی اس صلاحیت پر بھی روشنی ڈالی کہ وہ کثیرالجہتی سفارت کاری، تجربات کے تبادلے اور رکن ممالک کی پالیسیوں میں ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔
صدر ایران نے قدرتی گیس کی پوری ویلیو چین میں مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی ترقی، پیداواری کارکردگی میں اضافے اور علاقائی و عالمی گیس تجارت کو وسعت دینے کو فورم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کی اہم ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی گیس کے وسیع ذخائر اور پیداواری صلاحیت کے حامل ملک کی حیثیت سے ایران غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور گیس کی صنعت کے بالائی اور زیریں شعبوں کے منصوبوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر ایران کے خطاب کا مکمل متن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جناب ولادیمیر پوتین، صدرِ محترم روسی وفاق،
مجھے خوب صورت اور تاریخی شہر ماسکو میں موجودگی پر خوشی ہے۔ میں اس اہم اجلاس کی میزبانی پر دوست ملک روس کی حکومت اور عوام، بالخصوص آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اسی طرح گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوششوں پر فورم کے معزز سیکرٹری جنرل اور سیکرٹریٹ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، میں اسلامی انقلاب کے شہید رہبر حضرت آیت اللہ خامنہ ایؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اپنے اقدامات اور حمایت کے ذریعے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جناب صدر، معزز سربراہانِ وفود، خواتین و حضرات
گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کا آٹھواں سربراہی اجلاس ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے جب جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں نے عالمی توانائی کی سلامتی کو سنگین چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔
اس تناظر میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت، جو سیاسی مذاکرات کے دوران دو مرتبہ کی گئی، عالمی سلامتی کے خلاف افسوس ناک اور خطرناک واقعات میں سے ایک ہے۔ اس جارحیت کے نتیجے میں ہمارے ملک کی توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور توانائی کی ترسیل کے عمل میں خلل پیدا ہوا، جس سے عالمی توانائی کی سلامتی اور معیشت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
میں اس بات پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ ممالک کے خلاف یک طرفہ پابندیاں عائد کرنا اور امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری و فضائی ناکہ بندی کی صورت میں معاشی دہشت گردی کرنا، نیز دوسرے ممالک پر اس ناکہ بندی کی پیروی کے لیے دباؤ ڈالنا، غیر قانونی اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو سنگین خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔ دنیا کے بڑے توانائی فراہم کرنے والے ممالک کو ان کی مذمت کرنی چاہیے اور ان کا مؤثر مقابلہ کرنا چاہیے۔
آج خلیج فارس کے خطے میں امریکی فوجی مداخلت کے اثرات صرف علاقائی فریقوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ شدید جھٹکے پیدا کرکے توانائی کی قیمتوں کے تعین، فراہمی اور ترسیل کے عمل میں خلل ڈالتی ہے اور عالمی اقتصادی ترقی کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔
عالی مرتبت رہنماؤں!
گیس برآمد کرنے والے ممالک کا فورم دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کی سرگرمیوں کے بعد گیس سے متعلق کثیرالجہتی سفارت کاری کی علامت بن چکا ہے۔ یہ رکن ممالک کے درمیان مکالمے، تجربات کے تبادلے اور تعاون کو مضبوط بنانے کا پلیٹ فارم ہے اور عالمی توانائی کے مسائل و مشکلات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس سلسلے میں فورم کے منشور اور سربراہی اجلاسوں کے اعلامیوں پر عمل درآمد، بالخصوص ٹیکنالوجی کی ترقی، ماحول دوست اور پائیدار انتظامی طریقوں کے فروغ، علاقائی و عالمی گیس منڈیوں کی توسیع، قدرتی گیس کے وسائل کی ویلیو چین میں کردار بڑھانے اور توانائی کی غربت کے خاتمے پر خصوصی توجہ دینا اہم ہے۔
خواتین و حضرات
عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ فورم کے رکن ممالک دو شعبوں میں اپنا تعاون بڑھائیں: حکمتِ عملی اور انتظامی پالیسی سازی، اور فنی و انجینئرنگ آپریشنز۔
حکمتِ عملی کے شعبے میں بنیادی توجہ منڈیوں کے استحکام اور علاقائی و عالمی سطح پر قدرتی گیس کی تجارت کے حجم میں اضافے کے طریقوں پر ہونی چاہیے۔
فنی اور انجینئرنگ کے شعبے میں فورم کے ارکان کے لیے بنیادی اہمیت قدرتی گیس کی پوری ویلیو چین، یعنی پیداوار سے لے کر پراسیسنگ، ترسیل اور استعمال تک، مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پیداواری کارکردگی بڑھانے اور گیس کی پیداوار و استعمال کے ماحولیاتی اثرات کم کرنے کے لیے تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانا بھی مشترکہ تعاون کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ رکن ممالک کی موجودہ صلاحیتوں کو عملی منصوبوں اور مشترکہ مفادات میں تبدیل کیا جائے۔ فورم کی طویل مدتی حکمتِ عملی پر مؤثر عمل درآمد، منڈیوں کی تبدیلیوں اور مستقبل میں توانائی کی فراہمی و طلب کے امکانات سے ہم آہنگ ہو، تاکہ ارکان کی ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا ہو اور عالمی توانائی کے مستقبل میں فورم کا کردار مزید مضبوط ہو سکے۔
عالی مرتبت رہنماؤں
اسلامی جمہوریہ ایران، گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے بانی ارکان میں سے ایک اور دنیا میں قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کے لحاظ سے دوسرے بڑے ملک کی حیثیت سے، فورم کے دائرہ کار میں کثیرالجہتی سفارت کاری، علم و تجربے کے تبادلے اور گیس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے۔
دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں کے مرکز میں واقع ایران اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث عالمی توانائی کی لچک اور استحکام میں نمایاں اضافہ کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کی گیس کی صنعت میں موجود صلاحیتیں فورم کے رکن ممالک کے نجی شعبوں کے لیے قدرتی گیس کے بالائی اور زیریں شعبوں، نیز گیس کی تجارت میں تعاون کے موزوں مواقع فراہم کرتی ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کار تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل کی صنعتوں میں دستیاب مراعات اور سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے دائرے میں ایران کی غیر معمولی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کئی برسوں کی یک طرفہ پابندیوں کے باوجود ہم نے اپنی داخلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے ایران میں قدرتی گیس کی پیداوار کو 300 ارب مکعب میٹر تک پہنچایا ہے اور دنیا کے تیسرے بڑے قدرتی گیس پیدا کرنے والے ملک کی حیثیت برقرار رکھی ہے۔
قدرتی گیس کے استعمال کے حوالے سے بھی ایران دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے، جہاں توانائی کے مجموعی استعمال میں گیس کا حصہ 70 فیصد ہے۔ اس وقت ایران کی 95 فیصد آبادی قومی قدرتی گیس نیٹ ورک سے منسلک ہے۔
جناب صدر، خواتین و حضرات
ہمارا یقین ہے کہ تعمیری تعاون کے ذریعے توانائی کی فراہمی اور طلب کے تحفظ، قدرتی گیس کی منصفانہ قیمتوں کے تعین اور عالمی توانائی کے مجموعی نظام میں اس کے کردار کو بڑھانے میں مدد دی جا سکتی ہے، جبکہ ماحولیاتی تقاضوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اس سلسلے میں رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے تیل و توانائی، فورم کے سیکرٹری جنرل اور سیکرٹریٹ کے عملے کی فعال شرکت اور ان کے درمیان تعمیری تعاون نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ